ممبئی، 8 جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جمعہ کو بجٹ پیش ہونے کے بعد سے شیئرمارکیٹ میں جاری کمی کی وجہ سے شیئر میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی جائیداد میں 5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی چپت لگ چکی ہے۔ممبئی شیئر ایکسچینج (بی ایس ای) میں شامل تمام کمپنیوں کی مارکیٹ سرمایہ(مارکیٹ کیپٹلائز یشن یا مارکیٹ ٹوپی) پیر کو 11:40 بجے تک گھٹ کر 148.43 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا جو جمعہ کو کاروبار شروع ہونے تک 153.58 لاکھ کروڑ روپے تھا۔کاروبار بند ہونے کے وقت سنسیکس 792.82 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 38720.57 پر بند ہوا۔وہیں این ایس ای نفٹی 252.55 پوائنٹس کی بھاری کمی کے ساتھ 11558.60 پوائنٹس پر بند ہوا۔اڈبی کیپٹل مارکیٹس کے ریسرچ ہیڈ اے کے پربھاکر نے کہاکہ بجٹ میں کچھ تھا نہیں اور مارکیٹ کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑا، لیکن جب کچھ تبدیلیوں کی وجہ سے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئیز) کے لئے طویل مدتی کیپٹل گیس ٹیکس بڑھ گیا تو مارکیٹ کویہ راس نہیں آیا۔بائے بیک ٹیکس اور چند سال کے بعد پبلک شیئرہولڈنگس بڑھانے کی منصوبہ بندی نے بھی سرمایہ کاروں کا موڈ خراب کر دیا۔سالانہ کروڑوں میں کمانے والے بہت سے دولت مندکئی طرح کے انکم ٹیکس سرچارج بڑھانے کے بجٹ کی تجویز سے 2 ہزار غیر ملکی فنڈز متاثر ہوئے ہیں۔پیر کو کاروباری مدت کے سینسیکس کے بڑے شیئر میں شامل ایچ ڈی ایف سی بینک، لارسن اینڈ ٹبرو (ایل اینڈٹی)،آئی سی آئی سی آئی بینک، ایس بی آئی، بجاج فینانس، کوٹک مہندرا بینک اورایکسس بینک میں ملا جلا کر 400 پوائنٹس کی کمی آ گئی۔